5 جنوری 2026 - 02:44
جنرل سلیمانی، ایران کی کرشماتی طاقت کا عکس، امریکی تھنک ٹینکس

یہ رپورٹ کا دوسرا حصہ ہے، جس میں شہید جنرل الحاج قاسم سلیمانی کی شخصیت اور کردار کو مغربی تھنک ٹینکس کی زبانی،  متعارف کرایا گیا ہے؛ ان کی شخصیت، مقام اور نمایاں خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی پیشرفتوں کے میدان میں ان کے افکار اور اقدامات نے امریکی-اسرائیلی اتحاد کے تخمینوں اور اندازوں، اور اور سرگرمیوں کو کس حد تک رکاوٹوں سے دوچار کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس حصے میں، امریکی تھنک ٹینکس کی نظر میں جنرل سلیمانی کی دیگر خصوصیات کی عکاسی کرنے اور اس عالی قدر شہید کی ایک منظم اور جامع تصویر پیش کرنے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مغربی سیاسی زبان میں ان کے کردار کو کس انداز سے پیش کیا جاتا ہے۔

شام میں ایران - روس  اسٹراٹیجک ہم آہنگی

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز جنرل سلیمانی کو شام میں ایران اور روس کی علاقائی اسٹراٹیجی کے درمیان حلقۂ وصل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ میدان کی درست تصویر پیش کرکے اور حلیف قوتوں کی صلاحیت دکھا کر، روس کی براہ راست مداخلت کے عزم میں رکاوٹ بننے والے شکوک و شبہات کو کم کرنے میں کامیاب رہے اور تہران اور ماسکو کے تعاون کو محدود سیاسی تعامل سے عملی شراکت کے درجے تک پہنچایا۔

رینڈ انسٹی ٹیوٹ بھی انہیں مختلف مگر متراکب (Overlapping) مفادات رکھنے والے دو اداکاروں کے درمیان عملی اور آپریشنل رابطہ قرار دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایران اور روس کا تعاون زیادہ تر عملی اور میدانی ہم آہنگی (Field coordination) کا نتیجہ تھا نہ کہ کلاسیکی اتحاد کا؛ خاص طور پر یہ کہ جنرل سلیمانی نے روس کی فضائی صلاحیت اور شام کی سرکاری قوتوں کے درمیان خلا کو پر کر دیا اور مشترکہ کارروائیوں کی تاثیر کو بڑھایا۔

بروکنگز تھنک ٹینک اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنرل سلیمانی روسی مداخلت کو شام کے اسٹراٹیجک مقاصد کی خدمت میں استعمال کرنے میں کامیاب رہے، بغیر اس کے کہ میدان کا کنٹرول مکمل طور پر تہران کے ہاتھ سے نکل جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کی توقعات کو اس طرح ترتیب دیا کہ روس کے مفادات ایران کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئے۔

کارنیگی اینڈومنٹ بھی ایران اور روس کے تعاون کو تاکتیکی، میدانی اور آپریشنل قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جنرل سلیمانی نے روس کی زمینی اور ایران کی فضائی محدودیتوں کو پہچان کر شامی حکومت کی بقا کے لئے ایک مکمل کرنے والا نمونہ (Complementary Model) قائم کیا اور شام میں عملی طور پر بڑی طاقتوں کی باہمی کارروائیوں میں ایک مؤثر اداکار بن گئے۔

اٹلانٹک کونسل انہیں روس کے ساتھ غیر رسمی مگر مؤثر رابطے اور ہم آہنگی کا ذریعہ قرار دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم آہنگی کا ایک بڑا حصہ سرکاری چینلز سے باہر اور سیکیورٹی اور میدانی رابطوں کے ذریعے چلتا تھا جس کے مرکز میں جنرل سلیمانی تھے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی انہیں ایک ضروری واسطہ قرار دیتا ہے۔

9۔ ایران - عراق کے تزویراتی تعلقات کا انتظام

بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو ایک ایسا کردار قرار دیتا ہے جس نے ایران کے تعلقات کو گروپوں کے ساتھ غیر رسمی رابطوں کی سطح سے عراق کے سیاسی اور سیکیورٹی نظام کے اندرونی ڈھانچہ جاتی رابطوں کی سطح تک پہنچایا اور ـ خاص طور پر 2014 کے بعد عراقی حکومت، عوامی رضا کار فورس (الحشد الشعبی) اور دیگر شیعہ اداکاروں کے درمیان تعلق کے انتظام کے ذریعے قومی، مذہبی اور سیاسی صلاحیتوں کو پہچان کر ـ ایران کو بغداد کے فیصلہ سازی کے قارمولے کا ناگزیر حصہ بنا دیا۔

کونسل آن فارن ریلیشنز جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں 'طاقت کے ثالث' کے طور پر دیکھتی ہے جن کا مسلح اداکاروں، سیاست دانوں، سرکاری اہلکاروں اور یہاں تک کہ کچھ سنی اور کرد کارکنوں کے ساتھ رابطے میں تھے؛ اور حکومت کی تشکیل اور سیکیورٹی بحرانوں کے اہم مواقع پر ایک فوجی کمانڈر سے زیادہ بڑا کردار ادا کرتے تھے؛ یہاں تک کہ وہ عراق کی اندرونی سیاست میں سب سے زیادہ بااثر غیر ملکی کرداروں میں سے ایک بن گئے۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز انسٹی ٹیوشنل-غیر رسمی اثر و رسوخ کے تصور کی بات کرتا ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ سلیمانی نے سرکاری ڈھانچے کے اندر، خاص طور پر عوامی موبائلائزیشن کے قیام اور قانونی حیثیت حاصل کرنے کے بعد، عراق کے قومی مفادات کے پابند فورسز کے نیٹ ورکنگ کے ذریعے ایران کے ساتھ ہم آہنگی کو حکومت کے باہر سے اندر منتقل کیا اور یہ صدام کے زوال کے بعد دونوں ممالک کے قومی مفادات کو ہم آہنگ کرنے کے سب سے پیچیدہ طریقوں میں سے ایک تھا۔

رینڈ انسٹی ٹیوٹ کم سے کم لاگت کے ساتھ پائیدار اثر و رسوخ کی منطق پر زور دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جنرل سلیمانی نے فوجی حمایت، سیاسی اثر و رسوخ اور بحران کے انتظام کا ایک مجموعہ استعمال کرتے ہوئے ایران کو عراق میں ایک ناقابل متبادل اداکار بنا دیا اور مرکزی حکومت کے ساتھ ہم آہنگ فورسز کو ہم آہنگ کرکے، نہ صرف تہران کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھا بلکہ عراقی ریاستی نظام کے مکمل خاتمے کا بھی سد باب کیا۔

اٹلانٹک کونسل وضاحت کرتا ہے کہ عراقی رہنماؤں کے تہران کے ساتھ بہت سے براہ راست رابطے جنرل سلیمانی کے ذریعے ہوتے تھے، جس نے ان رابطوں کی رفتار اور تاثیر میں اضافہ کیا۔ کارنیگی اینڈومنٹ لکھتا ہے کہ جنرل سلیمانی نے ایران کی پوزیشن کو محض ایک سیکیورٹی پارٹنر سے سیاسی ترتیب کی تشکیل کے ایک اہم عنصر تک پہنچایا اور پس پردہ مذاکرات، اتحادوں کی تشکیل اور بغداد میں اقتدار کی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا، یہاں تک کہ ایران کو عراق کے داعش کے بعد کے مرحلے (Post ISIS) کا فیصلہ کن عنصر بنا دیا۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ انہیں ایک قابل باصلاحیت ایرانی منتظم قرار دیتا ہے جو اپنی موجودگی اور بامقصد تعلقات کے ذریعے عراقی اداکاروں کے رویے کو ریگولیٹ کرتے تھے اور عراق کے مختلف گروپوں کے درمیان ایک پائیدار توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

10۔ ایران کی بیرونی طاقت کا کاریزمیٹک اور علامتی چہرہ

بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو ایران کی علاقائی پالیسی کا نشان قرار دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ عراق اور شام میں ان کی میدانی موجودگی نے ایران کی بیرونی طاقت کے عکس کو ایک مخصوص چہرے [شہید سلیمانی] سے جوڑ دیا؛ اور ایران کی یہ تصویر حلیف قوتوں کے لئے حوصلہ افزا اور مخالفین کے لئے رکاوٹ تھی، کیونکہ ایران کا ردعمل اور فیصلہ بہت سے ذہنوں میں ان کی ذات سے وابستہ ہو گیا تھا۔

کونسل آن فارن ریلیشنز انہیں ایک کرشماتی (Charismatic) شخصیت قرار دیتا ہے جس نے بیرونی طاقت کو اداروں کی سطح سے ادراک کی سطح پر منتقل کیا اور کہتا ہے کہ ان کی معروفیت ایران کو یہ موقع فراہم تھی کہ وہ تسدیدی پیغامات وسیع فوجی کارروائی کے بغیر ہی منتقل کر سکے، یہاں تک کہ وہ ایک قسم کا سیکیورٹی نشان بن گئے تھے جن کا نام کچھ اداکاروں کے رویے کے اندازوں کو درہم برہم اور تبدیل کر سکتا تھا۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز جنرل سلیمانی کے گرد شعوری علامت سازی کی بات کرتا ہے اور اسے حلیف قوتوں میں اتحاد و یکجہتی بڑھانے اور ایران کی علاقائی پالیسی میں ایک واضح مرکزِ ثقل (Center of gravity) کی موجودگی کا پیغام بھیجنے کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ رینڈ انسٹی ٹیوٹ انہیں نامتقارن جنگوں میں کرشماتی قیادت کی مثال قرار دیتا ہے اور زور دیتا ہے کہ ان کی ذاتی اور خداداد صلاحیت (اور گیرائی Charisma) نے حلیف فورسز کو متوجہ کرنے اور انہیں متحرک کرنے اور منظم اور کنٹرول کرنے کے اخراجات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ کمانڈر کی ذات سے وفاداری آپریشنل اتحاد کے ایک حصے کی ضمانت بن گئی تھی۔

اٹلانٹک کونسل اندرونی ہیرو اور بیرونی دشمن پر مشتمل دوہرے پن پر زور دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اس دوہرے کردار نے ایران کے اقدامات کا نفسیاتی وزن بڑھایا: اتحادیوں کے نزدیک وہ کارکردگی کی علامت تھے اور حریفوں کی نظر میں خطرے کا اعلان۔ کارنیگی اینڈومنٹ جنرل سلیمانی کو ایران کی طاقت کی پالیسی کا زندہ نشان قرار دیتا ہے جو پیچیدہ ایرانی پالیسی کی ایک جانی پہچانی تصویر پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی انہیں ایران کی تسدید کا علامتی چہرہ قرار دیتا ہے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجویو: رضا حسینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha